17 اپریل 2010 - 19:30

ہیومیں رائٹس واچ نے اپنی نئی رپورٹ میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورت حال بدستور مخدوش قرار دی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہیومیں رائٹس نے 2010 میں اپنی نئی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس نے سعودی عرب میں رہنے  والے 20 لاکھ سے زائد شیعہ مسلمانوں سمیت بیرونی مزدوروں اور اس ملک کی خواتین کی صورت حال کو تشویشناک قرار دیا اور سعودی عرب میں اقلیتوں  کے حقوق کی رعایت اور امتیازی طرز سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ہیومیں رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی حکمران اس ملک کے تقریباً تمام خواتین، 8 لاکھ بیرونی مزدوروں اور 20 لاکھ پیروان  تشیع کی سرکوبی جاری رکھی ہوئی ہیں اور ان کے اوپر سعودیوں کے دباؤ میں کوئی کمی تو نہیں آئی اضافہ ضرور ہوا ہے۔  اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں 2000 قیدی ایسے بھی ہیں جنہیں دہشت گردی یا سیاسی سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کرکے ـ مقدمہ چلائے  بغیر ـ جیل بھیج دیا گیا ہے اور کئی برسوں سے جیل میں رہنے کے باوجود ان پر ابھی تک عدالت نے فرد جرم عائد نہیں کی ہے۔ یہ افراد جیلوں میں آزار و  اذیت اور ٹارچر کا سامنا کررہے ہیں۔یادرہے کہ ہیومین رائٹس واچ نے حالیہ چند برسوں میں کئی بار رپورٹیں شائع کرکے سعودی عرب میں نا انصافی، امتیازی سلوک اور ظلم و جور کے حوالے  سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔